Surah Al Baqara (Ayat 142)
سورۃ البقرہ
سَیَقُول ُالسُّفَھَآئُ مِنَ النَّاسِ مَاوَلّٰھُم ْ عَنْ قِبْلَتِھِمُ الَّتِیْ کَانُوْاعَلَیْھَاط قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالمَغْرِب ط یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٖ (۱۴۲)
ترجمہ:
اب یہ بے وقوف لوگ کہیں گے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جس نے ان (مسلمانوں) کو اُس قبلے سے رُخ پھیرنے پر آمادہ کر دیا جس کی طرف وہ منہ کرتے چلے آرہے تھے؟ آپ کہہ دیجئے کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت کر دیتا ہے۔(۱۴۲)
تفسیر:
(پیارے نبی) حضرت (محمد ﷺ) جب مکّہ سے مدینہ میں تشریف لائے تو سولہ سترہ مہینے بیت المقدس ہی کی طرف نماز پڑھتے رہے ، اس کے بعد کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آگیا تو یہود اور مشرکین اور منافقین اور بعضے کچے مسلمان ان کے بہکانے سے شبہ ڈالنے لگے کہ یہ تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھا کرتے تھے جو قبلہ تھا پہلے انبیاء کا۔ اب انہیں کیا ہوا جو اس کو چھوڑ کر کعبہ کو منہ کرنے لگے کسی نے کہا کہ یہود کی عداوت و حسد سے ایسا کیا ، کسی نے کہا کہ یہ اپنے دین میں متردد اور متحیّر ہیں جن سے ان کا نبی اللہ ہونا ظاہر نہیں ہوتا۔مخالفوں کے اس اعتراض اور اس کے جواب کی جو آگے ہے اللہ نے اطلاع فرمادی کہ کسی کواس وقت کوئی تردّد نہ ہو اور جواب میںتاُمل نہ ہو۔
یعنی اے محمد ﷺ کہہ دو کہ نہ ہم نے یہود کے حسد سے اور نہ کسی نفسانی تعصب اور اپنی رائے کے اتباع سے قبلہ کو بدلا، بلکہ محض اتباعِ فرمانِ خداوندی سے جوکہ ہمارا اصل دین ہے ہم نے ایسا کیا پہلے بیت المقدس کو منہ کرنے کا حکم تھا اس کو ہم نے تسلیم کیا ، اب کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آیا اس کو دل سے قبول کیا ، ہم سے اس کی وجہ پوچھنا اور ہم پر اعتراض کرنا سخت حماقت ہے۔ غلام تابعدار پر یہ اعتراض کرنا کہ تو پہلے وہ کام کرتا تھا اب یہ کام کیوں کرنے لگا، عاقل کا کام نہیں اور اگر ان احکام مختلفہ کے اسرار دریافت کرتے ہو تو اس کے تمام اسرار کون سمجھے اور تم بیوقوفوں کو کون سمجھائے البتہ اتنی بات ہر کوئی سمجھ سکتا ہے اور ہر ایک کو سمجھایا جا سکتا ہے کہ قبلہ کا معین فرمانا تو طریقہ عبادت کو بتلانے کی غرض سے ہے، اصل عبادت ہرگز نہیں اور اس بارہ میں حق تعالیٰ کا معاملہ جُدا جُدا ہے کسی کو اپنی حکمت و رحمت کے مطابق ایک خاص رستہ بتلایا جاتا ہے کسی کو دوسرا ، تمام مواقع اور جہات کا وہ مالک ہے جس کو جس وقت چاہتا ہے اس کو ایسا رستہ بتلا دیتا ہے جو نہایت سیدھا اور سب رستوں سے مختصر اور قریب تر ہو،چنانچہ ہم کو اس وقت اس قبلہ کی ہدایت فرمائی جو سب قبلوں میں افضل اور بہتر ہے۔(تفسیر عثمانی)
تفسیر درمنثور میں ہے کہ امام ابن سعد ، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید، بخاری ، مسلم ، ابودائود (الناسخ میں)
ترمذی، نسانی، ابن جریر، ابن حبان، اور بیہقی رحمہم اللہ نے سنن میں حضرت براء بن عازب ؓسے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو اپنے ننہال انصار کے پاس ٹھہرے۔آپ ﷺ نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔آپ کو پسند یہ تھی کہ آپ کا قبلہ کعبہ ہو۔ آپ ﷺ نے پہلی نماز جو بیت اللہ کی طرف منہ کرکے پڑھی وہ عصر کی نماز کی تھی۔اور آپ ﷺ کے ساتھ دوسرے لوگو ں نے بھی اسی طرح یہ نماز پڑھی پھر ان میں سے ایک شخص جنہوں نے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی وہ ایک دوسری مسجد کے نمازیوں کے پاس سے گزرا جب کہ وہ رکوع میں تھے ، اس شخص نے کہا میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں، کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی۔وہ نماز کی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے۔
پھر انہیں یہ پریشانی ہوئی کہ جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز یں پڑھتے رہے جب کہ ابھی قبلہ نہیں بدلا تھا اور وہ لوگ جو شہید ہو گئے ان کی نمازوں کا کیا بنے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لیُضِْعَ اِیْمانَکُمْط اِنَّ اللّٰہ َ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْم’‘
ترجمہ: اور اللہ ایسے نہیں کہ تمھارے ایمان (کے متعلق اعمال مثلاً نماز کے ثواب ) کو ضائع کردیں۔
قبلہ کا معنی:
القبلۃ ،وہ جہت جس کا نماز میں انسان رُخ کرتا ہے، کیونکہ نمازی اس کا سامنا کرتا ہے ۔۔۔ (مدارک)
تفسیر معارف القرآن میں ہے کہ قبلہؔ کے لفظی معنی ہیں سمتِ توجّہ ، یعنی جس طرف رُخ کیا جائے ، یہ ظاہر ہے کہ مومن کا رُخ ہر عبادت میں صرف ایک اللہ وحدہُ لاشریک لہُ کی طرف ہوتا ہے ، اور اس کی ذات پاک مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی قیدوں اور سمتوں سے بالا تر ہے، وہ کسی خاص سمت میں نہیں ، اس کا اثر طبعی خاص طور پر یہ ہونا تھا کہ کوئی عبادت کرنے والا کسی خاص رُخ کا پابند نہ ہوتا، جس کا جس طرف جی چاہتا نماز میں اپنا رُخ اس طرف کرلیتا، اور ایک ہی آدمی کسی وقت ایک طرف اور کسی وقت کئی طرف رُخ کرتا تو وہ بھی بے جانہ ہوتا۔
لیکن ایک دوسری حکمتِ الٓہیہ اس کی مقتضی ہوئی کہ تمام عبادت گزاروں کا رُخ ایک ہی طرف ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ عبادت کی مختلف قسمیں ہیں، بعض انفرادی ہیں، بعض اجتماعی ، ذکراللہ اور روزہ وغیرہ انفرادی عبادات ہیں جن کو خلوت میں اور اخفاء کے ساتھ ادا کیا جا سکتا ہے، اور نماز اور حج اجتماعی عبادات ہیں جن کو جماعت و اجتماع و اعلان کیساتھ اداکیا جاتا ہے، ان میں عبادت کیساتھ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی کے آداب کا بتلانا اور سکھانا بھی پیشِ نظر ہے، اور یہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ اجتماعی نظام کا سب سے بڑا بنیادی اصول افرادِ کثیرکی وحدت
پھر انہیں یہ پریشانی ہوئی کہ جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز یں پڑھتے رہے جب کہ ابھی قبلہ نہیں بدلا تھا اور وہ لوگ جو شہید ہو گئے ان کی نمازوں کا کیا بنے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لیُضِْعَ اِیْمانَکُمْط اِنَّ اللّٰہ َ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْم’‘
ترجمہ: اور اللہ ایسے نہیں کہ تمھارے ایمان (کے متعلق اعمال مثلاً نماز کے ثواب ) کو ضائع کردیں۔
قبلہ کا معنی:
القبلۃ ،وہ جہت جس کا نماز میں انسان رُخ کرتا ہے، کیونکہ نمازی اس کا سامنا کرتا ہے ۔۔۔ (مدارک)
تفسیر معارف القرآن میں ہے کہ قبلہؔ کے لفظی معنی ہیں سمتِ توجّہ ، یعنی جس طرف رُخ کیا جائے ، یہ ظاہر ہے کہ مومن کا رُخ ہر عبادت میں صرف ایک اللہ وحدہُ لاشریک لہُ کی طرف ہوتا ہے ، اور اس کی ذات پاک مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی قیدوں اور سمتوں سے بالا تر ہے، وہ کسی خاص سمت میں نہیں ، اس کا اثر طبعی خاص طور پر یہ ہونا تھا کہ کوئی عبادت کرنے والا کسی خاص رُخ کا پابند نہ ہوتا، جس کا جس طرف جی چاہتا نماز میں اپنا رُخ اس طرف کرلیتا، اور ایک ہی آدمی کسی وقت ایک طرف اور کسی وقت کئی طرف رُخ کرتا تو وہ بھی بے جانہ ہوتا۔
لیکن ایک دوسری حکمتِ الٓہیہ اس کی مقتضی ہوئی کہ تمام عبادت گزاروں کا رُخ ایک ہی طرف ہونا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ عبادت کی مختلف قسمیں ہیں، بعض انفرادی ہیں، بعض اجتماعی ، ذکراللہ اور روزہ وغیرہ انفرادی عبادات ہیں جن کو خلوت میں اور اخفاء کے ساتھ ادا کیا جا سکتا ہے، اور نماز اور حج اجتماعی عبادات ہیں جن کو جماعت و اجتماع و اعلان کیساتھ اداکیا جاتا ہے، ان میں عبادت کیساتھ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی کے آداب کا بتلانا اور سکھانا بھی پیشِ نظر ہے، اور یہ بھی بالکل ظاہر ہے کہ اجتماعی نظام کا سب سے بڑا بنیادی اصول افرادِ کثیرکی وحدت
اور یکجہتی ہے، یہ وحدت جتنی زیادہ قوی سے قوی ہوگی اتنا ہی اجتماعی نظام مستحکم اور مضبوط ہوگا۔ ( مذکورہ تفسیر میں اس عنوان پر تفصیلی گفتگو فرمائی گئی، ہم طوالت کے خوف سے سب نہیں لکھ سکتے ، قارئین اگر چاہیں تو معارف القرآن میں ان آیات کی تفسیر کا ضرور مطالعہ فرمالیں۔ آگے پھر اسی تفسیر سے خوشہ چینی کر رہے ہیں ملاحظہ فرمالیں)
سمتِ قبلہ وحدت کیلئے اہم چیز ہے ، کہ اگر اللہ جل شانہُ کی ذات پاک ہر سمت و جہت سے بالاتر ہے ، اس کے لیے شش جہت یکساں ہیں ، لیکن نماز میں اجتماعی صورت اور وحدت پیدا کرنے کے لئے تمام انسانوں کا رُخ کسی ایک ہی جہت وسمت کی طرف ہونا ایک بہترین اور آسان اور بے قیمت وحدت کا ذریعہ ہے ، جس پر سارے مشرق و مغرب اور جنوب و شمال کے انسان آسانی سے جمع ہوسکتے ہیں ، اب وہ ایک سمت وجہت کونسی ہو جس کی طرف ساری دنیا کا رُخ پھیر اجا ئے ، اس کا فیصلہ اگر انسانوں پر چھوڑاجائے تو یہی ایک سب سے بڑی بناء اختلاف و نزاع بن جاتی ہے ، اس لیے ضرور ی تھا کہ اس کا تعین خود حضرت حق جل و علاشانہُ کی طرف سے ہوتا، حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں اُتارا گیا، تو فرشتوں کے ذریعہ بیت اللہ کعبہ بنایا گیا ۔
سمتِ قبلہ وحدت کیلئے اہم چیز ہے ، کہ اگر اللہ جل شانہُ کی ذات پاک ہر سمت و جہت سے بالاتر ہے ، اس کے لیے شش جہت یکساں ہیں ، لیکن نماز میں اجتماعی صورت اور وحدت پیدا کرنے کے لئے تمام انسانوں کا رُخ کسی ایک ہی جہت وسمت کی طرف ہونا ایک بہترین اور آسان اور بے قیمت وحدت کا ذریعہ ہے ، جس پر سارے مشرق و مغرب اور جنوب و شمال کے انسان آسانی سے جمع ہوسکتے ہیں ، اب وہ ایک سمت وجہت کونسی ہو جس کی طرف ساری دنیا کا رُخ پھیر اجا ئے ، اس کا فیصلہ اگر انسانوں پر چھوڑاجائے تو یہی ایک سب سے بڑی بناء اختلاف و نزاع بن جاتی ہے ، اس لیے ضرور ی تھا کہ اس کا تعین خود حضرت حق جل و علاشانہُ کی طرف سے ہوتا، حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں اُتارا گیا، تو فرشتوں کے ذریعہ بیت اللہ کعبہ بنایا گیا ۔
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّ ضِعَ لِلنَّا سِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ھُدً ی لِّلْعَالَمِینہ (۳:۹۶)
ترجمہ: سب سے پہلے لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ گھر ہے جو مکہ میں ہے برکت والا ، ہدایت والا جہان والوں کے لئے۔
نوح علیہ السلام تک سب کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا، طوفانِ نوح علیہ السلام کے وقت پوری دنیا غرق ہوکر تباہ ہوگئی ، بیت اللہ کی عمارت بھی منہدم ہو گئی اور ان کے بعد حضرت خلیل اللہ اور اسماعیل علیھماالسلام نے دوبارہ بحکم خُداوندی بیت اللہ کی تعمیر کی، اور یہی انکا اور ان کی امت کا قبلہ رہا ، اس کے بعد انبیاء بنی اسرائیل علیھم السلام کے لئے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا اور بقول ابو العالیہ انبیاء سابقین ؑ جو بیت المقدس میں نماز پڑھتے تھے وہ عمل ایسا کرتے تھے کہ صخرہ بیت المقدس بھی سامنے رہے اور بیت اللہ بھی۔ (ذکرہ القرطبی)
حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر جب نماز فرض کی گئی تو بقول بعض علماء ابتداءََ آ پ ﷺ کا قبلہ آپﷺ کے جدّ امجد حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ یعنی خانہ کعبہ ہی قرار دیا گیا، مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے اور مدینہ طیبہ میں قیام کرنے کے بعد اور بعض روایات کے اعتبار سے ہجرت مدینہ سے کچھ پہلے آپﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ آپﷺ بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائیے ، صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے سولہ سترا مہینے بیت
المقدس کی طرف نماز ادا فرمائی ۔ مسجد نبوی ﷺ میں آج تک اس کی علامات موجود ہیں ، جہا ںکھڑے ہو کر آپﷺ نے بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا فرمائی تھی۔ ( قرطبی) حکمِ خداوندی کی تعمیل کے لئے توسید الرسل ﷺ سرتاپا اطاعت تھے ، اور حکمِ خداوندی کے مطابق نمازیں بیت المقدس کی طرف ادا فرما رہے تھے ، آپ کی طبعی رغبت اور دلی خواہش یہی تھی کہ آپ کا قبلہ پھر وہی آدم ؑ کا قبلہ قرار دیا جائے اور چونکہ عا دۃ اللہ یہی ہے کہ وہ اپنے مقبول بندوں کی مرادوں اور خواہش و رغبت کو پورا فرماتے ہیں ؎
توچنا ں خواہی خدا خواہد چنیں
می دہد یزداں مرادِ متقیں
آنحضرت ﷺ کو بھی یہ امید تھی کہ آپﷺ کی تمنا پوری کی جائے گی، اور اس لئے انتظار ِ وحی میں آپ ﷺ بار بار آسمان کی طرف نظریں اُٹھا کر دیکھتے تھے ، اسی کا بیان قرآن پاک کی آیت میں ہے:
قَد نَرٰی تَقَلُّبَ وَ جْھکَ فِی السَّمآئِ ج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْ ضٰھَاص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْر َالْمَسجِدِالْحَرَامِ (۲:۱۴۴)
ترجمہـ: اس آیت میں رسولِ کریم ﷺکی تمنا کا اظہار فرما کر اس کو پورا کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے ، کہ آئندہ آپ ﷺ مسجد ِ حرام کی طرف رُ خ کیا کریں۔
نماز میں خاص بیت اللہ کا استقبال ضروری نہیں اسکی سمت کا استقبال بھی بیرونی دنیا کیلئے کافی ہے۔
یہاں ایک فقہی نکتہ یہ بھی قابل ِ ذکر ہے کہ اس آیت میں کعبہ یا بیت اللہ کے بجائے لفظ مسجدِ حرام کا استعمال فرمایا گیا ہے ، جس میں اشارہ ہے کہ بلا دِ بعیدہ کے رہنے والوں کیلئے یہ ضروری نہیں کہ عین بیت اللہ کی محاذات پائی جائے ، بلکہ سمتِ بیت اللہ کی طرف رُخ کرلینا کافی ہے، ہاں جو شخص مسجدِ حرام میں موجود ہے ، یا کسی قریبی پہاڑ پر بیت اللہ کو سامنے دیکھ رہا ہے، اس کے لئے خاص بیت اللہ ہی کی طرف رُخ کرنا ضروری ہے ، اگر بیت اللہ کی کوئی چیز بھی اس کے چہرے کے محاذات میں نہ آئی تو اس کی نماز نہیں ہوتی ، بخلاف ان لوگوں کے جن کے سامنے بیت اللہ نہیں کہ ان کے واسطے سمتِ بیت اللہ یا سمتِ مسجد ِ حرام کی طرف رُخ کر لینا کافی ہے ۔
(تفسیر معارف القرآن ج ا ص ۳۶۳)
ترجمہ: سب سے پہلے لوگوں کے لئے بنایا گیا وہ گھر ہے جو مکہ میں ہے برکت والا ، ہدایت والا جہان والوں کے لئے۔
نوح علیہ السلام تک سب کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا، طوفانِ نوح علیہ السلام کے وقت پوری دنیا غرق ہوکر تباہ ہوگئی ، بیت اللہ کی عمارت بھی منہدم ہو گئی اور ان کے بعد حضرت خلیل اللہ اور اسماعیل علیھماالسلام نے دوبارہ بحکم خُداوندی بیت اللہ کی تعمیر کی، اور یہی انکا اور ان کی امت کا قبلہ رہا ، اس کے بعد انبیاء بنی اسرائیل علیھم السلام کے لئے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا گیا اور بقول ابو العالیہ انبیاء سابقین ؑ جو بیت المقدس میں نماز پڑھتے تھے وہ عمل ایسا کرتے تھے کہ صخرہ بیت المقدس بھی سامنے رہے اور بیت اللہ بھی۔ (ذکرہ القرطبی)
حضرت خاتم الانبیاء ﷺ پر جب نماز فرض کی گئی تو بقول بعض علماء ابتداءََ آ پ ﷺ کا قبلہ آپﷺ کے جدّ امجد حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ یعنی خانہ کعبہ ہی قرار دیا گیا، مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے اور مدینہ طیبہ میں قیام کرنے کے بعد اور بعض روایات کے اعتبار سے ہجرت مدینہ سے کچھ پہلے آپﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ آپﷺ بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائیے ، صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے سولہ سترا مہینے بیت
المقدس کی طرف نماز ادا فرمائی ۔ مسجد نبوی ﷺ میں آج تک اس کی علامات موجود ہیں ، جہا ںکھڑے ہو کر آپﷺ نے بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا فرمائی تھی۔ ( قرطبی) حکمِ خداوندی کی تعمیل کے لئے توسید الرسل ﷺ سرتاپا اطاعت تھے ، اور حکمِ خداوندی کے مطابق نمازیں بیت المقدس کی طرف ادا فرما رہے تھے ، آپ کی طبعی رغبت اور دلی خواہش یہی تھی کہ آپ کا قبلہ پھر وہی آدم ؑ کا قبلہ قرار دیا جائے اور چونکہ عا دۃ اللہ یہی ہے کہ وہ اپنے مقبول بندوں کی مرادوں اور خواہش و رغبت کو پورا فرماتے ہیں ؎
توچنا ں خواہی خدا خواہد چنیں
می دہد یزداں مرادِ متقیں
آنحضرت ﷺ کو بھی یہ امید تھی کہ آپﷺ کی تمنا پوری کی جائے گی، اور اس لئے انتظار ِ وحی میں آپ ﷺ بار بار آسمان کی طرف نظریں اُٹھا کر دیکھتے تھے ، اسی کا بیان قرآن پاک کی آیت میں ہے:
قَد نَرٰی تَقَلُّبَ وَ جْھکَ فِی السَّمآئِ ج فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْ ضٰھَاص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْر َالْمَسجِدِالْحَرَامِ (۲:۱۴۴)
ترجمہـ: اس آیت میں رسولِ کریم ﷺکی تمنا کا اظہار فرما کر اس کو پورا کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے ، کہ آئندہ آپ ﷺ مسجد ِ حرام کی طرف رُ خ کیا کریں۔
نماز میں خاص بیت اللہ کا استقبال ضروری نہیں اسکی سمت کا استقبال بھی بیرونی دنیا کیلئے کافی ہے۔
یہاں ایک فقہی نکتہ یہ بھی قابل ِ ذکر ہے کہ اس آیت میں کعبہ یا بیت اللہ کے بجائے لفظ مسجدِ حرام کا استعمال فرمایا گیا ہے ، جس میں اشارہ ہے کہ بلا دِ بعیدہ کے رہنے والوں کیلئے یہ ضروری نہیں کہ عین بیت اللہ کی محاذات پائی جائے ، بلکہ سمتِ بیت اللہ کی طرف رُخ کرلینا کافی ہے، ہاں جو شخص مسجدِ حرام میں موجود ہے ، یا کسی قریبی پہاڑ پر بیت اللہ کو سامنے دیکھ رہا ہے، اس کے لئے خاص بیت اللہ ہی کی طرف رُخ کرنا ضروری ہے ، اگر بیت اللہ کی کوئی چیز بھی اس کے چہرے کے محاذات میں نہ آئی تو اس کی نماز نہیں ہوتی ، بخلاف ان لوگوں کے جن کے سامنے بیت اللہ نہیں کہ ان کے واسطے سمتِ بیت اللہ یا سمتِ مسجد ِ حرام کی طرف رُخ کر لینا کافی ہے ۔
(تفسیر معارف القرآن ج ا ص ۳۶۳)
0 تبصرے:
Post a Comment
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔